یہ بے داغ قیادت انقلاب لائے گی
انعا م الحق اعوان
پس آئینہ
ان کی آنکھوں میں آنسوؤں کا دریا تھا اور وہ کہہ رہے تھے وہ عظیم شخص ہےکروڑوں افراد ان کے چاہنے والے اور لاکھوں افرادان کی ایک صدا پر اپنا سب کچھ قربان کردینے کےلیے تیار رہتے ہیں لیکن جب ان کی بیٹی کی شادی کا دعوت نامہ دیکھا تومیں حیران رہ گیا کیونکہ وہ پانچ سو روپے والا کارڈ نہیں تیس پیسے کے کاغذ پر مشتمل ایک پیپر تھا اور رخصتی کے پروگرام کے آخر میں ایک چھوٹا سا نوٹ تحریر تھا کہ کسی قسم کا گفٹ قبول نہیں کیا جائے گا اپنی بیٹی کو صرف دعاؤں کے ساتھ رخصت کریں اور پھر ا س بیٹی کی رخصتی ہوجاتی ہے اور کچھ دن بعد جب وہ اپنے اس والد کے گھر آکر بتاتی ہےکہ بابا مجھے شادی پر اٹھارہ سونے کے سیٹ گفٹ ملے ہیں حقیقت میں دراصل وہ میرےبابا کو ملے ہیں تو جواب ملتاہے بیٹی کیا وہ تمھارے بابا کو ملے ہیں تو عظیم باپ کی عظیم بیٹی کہ جس کی تربیت کرنے والی ماں بھی عظیم اور باپ بھی عظیم فورا کہتی ہےکہ نہیں بابا یہ گفٹ امیر جماعت اسلامی پاکستان کو ملے ہیں تو بابا سوال کرتا ہے کہ پھر یہ کس کی ملکیت ہوئے تو بیٹی فورا کہتی ہے کہ بابا یہ جماعت اسلامی کےبیت المال کی ملکیت ہوئے اور پھر لاکھوں روپے مالیت سونے کے سیٹ بیت المال میں جمع ہوجاتے ہیں۔پھر اس بزرگ شمس الرحمن سواتی نے اپنی سفید داڑھی کو صاف کیا جو اس کے آنسوؤں سے تر تھی اور پھر مجمع سے مخاطب ہوا جب وہ عظیم شخص کراچی کا امیر تھا تو ایک مکان خریدا تو اجتماع ارکان میں اس کا حسا ب دیتے ہوءے بتایا کہ مجھے وراثت میں حصہ ملا اس سے میں نے مکان خریدا اور اسی مالیت سے میں حج پر بھی جارہا ہوں پھر جب وہ مرکز جماعت منصورہ منتقل ہوئے تو ان کی رہائش واحد ایک کمرہ ہے جوکئی دہائیوں سے ان کے زیر استعمال ہے اور آج وہ بین الاقوامی اسلامی تحریک جماعت اسلامی کے سربراہ ہیں تو آج بھی ان کی رہائش وہی ایک کمرہ ہے یہ سب بیان کرتے ہوئےنہ صرف ان کی بلکہ پنڈال اورسٹیج پر موجود بیسیوں ارکان کی آنکھوں سے بھی ایک سیل رواں بہہ رہا تھا اور وہ ذکرکررہے تھے سید منور حسن کا جو حقیقت میں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا پر حکمرانی کی اہلیت اورصلاحیت رکھتے ہیں جماعت اسلامی کے ڈیڑھ سو سے زائد ارکان وکارکنان مختلف اوقات میں اسمبلی کے ممبر ز رہے لیکن بڑے سے بڑا نقاد اورمخالف بھی ان پرانگلی نہ اٹھا سکا کہ ان میں کسی ایک نےبھی کرپشن کی ہے اور خیبر پختونخواہ میں حکومت کی اہم وزارتوں پر فائز رہنے والے جماعت اسلامی کے وزراء نے صرف خدمت میں ریکارڈ قائم کئے دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین او رکارکنان کی طرح کرپشن میں عالمی ریکار ڈ قائم نہیں کئےاور پھر اطاعت نظم کا یہ عالم ہے کہ مرکزی مجلس شوری ٰ فیصلہ کرتی کہ انتخابا ت کا بائیکاٹ کرنا ہے تو کنفرم سیٹ کا حامل شخص قائداسلام آبا د میاں محمد اسلم اعلان کرتا ہے کہ میرے لیے اسمبلی کی رکنیت سے زیادہ اہم جماعت اسلامی کی رکنیت ہے حقیقت میں یہی بے داغ اورکرپشن سے پاک قیادت ہی انقلاب لانےاور عوا م کی قربانیوں کے نتیجے میں آنے والے اسلامی انقلاب کے حقیقی ثمرات عوام تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے کیونکہ لندن میں بیٹھ کر کراچی کی روشنیوں کو گل کرنےکے بعد پنجاب کی روشنیوں کے دشمن ویسا ہی انقلاب لائیں گے جیسے ان کے آقا چاہیں گے۔
Kash hamari qoom in ki wafat sa pahlae in ki qadar kare.ameen
ReplyDeleteASALAM O ALIKUM
ReplyDeleteALLAH SE DUA HAI KE HUMEIN IN KE HAKOOMAT TALY ZINDAGI GUZARNY KA MUQA DE AUR KHULAFA E RASHIDEEN KA YAAD TAZA KAREN..AAMEEN
ALLAH HO AKBAR
ReplyDeleteThank,s All Brother,s
ReplyDelete